اولاد پر شفقت اور یتامیٰ پر رحمت
حدیث ۱: صحیح بخاری و مسلم میں اُم المومنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے مروی، کہ ایک اعرابی نے رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں عرض کی، کہ آپ لوگ بچوں کو بوسہ دیتے ہیں ہم انھیں بوسہ نہیں دیتے۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ارشاد فرمایاکہ ''اﷲتعالیٰ نے تیرے دل سے رحمت نکال لی ہے تو میں کیا کروں۔''(4) حدیث ۲: صحیح بخاری و مسلم میں عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے، کہتی ہیں:ایک عورت اپنی دو لڑکیاں لے کر میرے پاس آئی اور اس نے مجھ سے کچھ مانگا، میرے پاس ایک کھجور کے سوا کچھ نہ تھا، میں نے وہی دے دی۔ عورت نے کھجور تقسیم کرکے دونوں لڑکیوں کو دے دی اور خود نہیں کھائی جب وہ چلی گئی، حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم تشریف لائے، میں نے یہ واقعہ بیان کیا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ارشاد فرمایا:''جس کو خدا نے لڑکیاں دی ہوں، اگر وہ ان کے ساتھ احسان کرے تو وہ جہنم کی آگ سے اس کے لیے روک ہوجائیں گی۔'' (5)
4۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ...إلخ،الحدیث:۵۹۹۸،ج۴،ص۱۰۰.
5۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''،کتاب البر والصلۃ...إلخ،باب فضل الإحسان إلی البنات،الحدیث:۱۴۷۔(۲۶۲۹)،ص۱۴۱۴.
